ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 'ایک دن حجاب پہننے والی لڑکی بھارتی وزیر اعظم ہو گی،‘ اویسی کے بیان پرہندووں کومتحد ہونے اور بھاجپا کوجتانے کے مسیجس وائرل

'ایک دن حجاب پہننے والی لڑکی بھارتی وزیر اعظم ہو گی،‘ اویسی کے بیان پرہندووں کومتحد ہونے اور بھاجپا کوجتانے کے مسیجس وائرل

Tue, 15 Feb 2022 12:48:46    S.O. News Service

لکھنؤ،15؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کرناٹک کے ایک مقامی اسکول سے شرو ع ہونے والا حجاب کا تنازعہ بین الاقوامی رخ اختیار کر چکا ہے اور ہندوستان  میں بھی ہر روز اس میں نئے نئے پہلوؤں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین 'پیش رفت‘ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا ایک بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن  ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی۔ ایک طرف ہندو قوم پرست رہنما اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ نے اس بیان پر سخت اعتراض کیا تو وہیں شدت پسند ہندوؤں میں بڑے پیمانے پر بوکھلاہٹ مچی ہے اُن میں نفسیاتی ہراس پھیل رہاہے کہ جلدازجلد ہندو متحد ہوکر بھاجپا کو جتائے ورنہ یہ ملک اسلامی راشٹر بن جائےگا سب ہندو ذات پات بھول کر مسلمانوں کےخلاف متحد ہوجاؤ۔

اویسی نے مزید کہا تھا، ''آپ اس بات کو یاد رکھیے گا، شاید میں اس وقت زندہ نہ رہوں لیکن حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن اس ملک کی وزیر اعظم بنے گی۔‘‘

ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس بیان میں اسدالدین اویسی کا کہنا تھا کہ لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں، وہ نقاب پہنتی ہیں اور کالج جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بن رہی ہیں، کلکٹر بن رہی ہیں، ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ) بن رہی ہیں اور تاجر بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حجاب پہننا کسی لڑکی کا بنیادی حق ہے۔

اویسی کے اس بیان پر ایک طرف غیر مسلم برادران وطن میں مسلمانوں کے تئیں نفرت اور اشتعال پھیلانے کی کوشش جاری ہے، وہیں مسلمانوں کے کئی طبقات میں بھی اویسی کے اس بیان پر ناراضگی دکھائی دے رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اویسی کے اس طرح کے بیانات سے مسلمانوں کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔۔

یوگی ادیتہ  ناتھ کا ردعمل

ہندوستان میں سیاسی لحاظ سے سب سے اہم ریاست اتر پردیش (یو پی) کے اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی پارٹی بھی میدان میں ہے۔ انہوں نے 403 رکنی اسمبلی میں تقریباً 100سیٹوں پر انتخابی مقابلے کااعلان کر رکھا ہے۔

یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اویسی کے بیان پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان لوگوں کے مذہبی عقیدے اور ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق چلے گا۔

ہمیشہ بھگوا رنگ کا ہندو مذہبی لباس پہننے والے یوگی ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا، ''میں اس بات پر ٹھوس یقین رکھتا ہوں کہ سسٹم کو بھارتی آئین کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ ہم اپنے ذاتی عقیدے، اپنے بنیادی حقوق، اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو ملک اور اداروں پر نہیں تھوپ سکتے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ''کیا میں یو پی کے عوام اور اپنے کارکنوں سے بھگوا کپڑے پہننے کے لیے کہہ رہا ہوں؟ وہ اپنی پسند سے جو پہننا چاہتے ہیں پہنیں۔ لیکن اسکولوں میں ڈریس کوڈ ہونا چاہیے۔ یہ اسکول کا معاملہ ہے، اسکول کے ڈسپلن کا معاملہ۔‘‘

یوگی ادیتہ ناتھ کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا عقیدہ مختلف ہو سکتا ہے لیکن جب ہم اداروں کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں ان کے ضابطوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، ''ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ سسٹم (اسلامی) شریعت کے مطابق کام نہیں کرے گا بلکہ یہ آئین کے مطابق چلے گا۔‘‘


Share: